Notice:صرف ادارتی ٹیم کی نظرِ ثانی مکمل ہوئی ہے - اہلِ علم کی نظرِ ثانی تاحال باقی ہے
قرآن جنات کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی ایک پوری سورت جنات کے نام سے نازل فرمائی ہے، یعنی سورۂ الجن، جو ترتیب میں بہترویں سورت ہے۔ اس مبارک سورت سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ جنات سنتے ہیں، عقل رکھتے ہیں، مکلف ہیں، ان میں سے بعض نے اسلام قبول کیا اور بعض نے نہیں، اور غیب تک ان کی رسائی بہت محدود ہے۔
وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ ٱلْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا ٦اور یہ کہ آدمیوں میں سے کچھ لوگ جنات میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، تو انہوں نے ان کی سرکشی میں مزید اضافہ کر دیا۔
یہ آیتِ مبارکہ زمانۂ جاہلیت کے ایک رواج کو بیان کر رہی ہے: یعنی جب کچھ لوگ کسی ویران وادی میں تنہا رہ جاتے تو اس وادی کے جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ آیت کا فیصلہ بالکل دو ٹوک ہے - جنات نے ان کی حفاظت تو کیا کرنی تھی، الٹا ان کی پریشانیوں اور بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر سے پناہ مانگنا، پناہ مانگنے والے ہی کو کمزور کرتا ہے۔ مومن کی پناہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے، اور وہ بھی اسی کے اسماءِ حسنیٰ کے واسطے سے۔
جنات کیا نہیں کر سکتے
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥کہہ دو: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا، اور انہیں خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا خاصہ ہے۔ جنات آپ کا مستقبل نہیں جانتے، نہ وہ آپ کے دل کی بات پڑھ سکتے ہیں، اور نہ ہی تقدیر میں لکھے ہوئے امور کو ان کے وقوع سے پہلے جان سکتے ہیں۔ تاہم وہ آپ کا ایک طویل عرصے تک مشاہدہ ضرور کر سکتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ کسی جادوگر کا کوئی جن مددگار بعض اوقات ایسی ذاتی باتیں بتا دیتا ہے جو سننے میں ایسے لگتی ہیں گویا وہ دل کی بات پڑھ رہا ہو۔
وَأَنَّا لَمَسْنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدْنَٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَٰعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ ٱلْـَٔانَ يَجِدْ لَهُۥ شِهَابًا رَّصَدًااور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے سخت پہریداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا۔ اور یہ کہ ہم اس میں چھپ کر سننے کی غرض سے بیٹھا کرتے تھے، تو اب جو کوئی سننے کی کوشش کرے گا، وہ اپنے لیے گھات میں ایک شعلہ پائے گا۔
سیدنا محمد (ﷺ) کی بعثت کے بعد جنات کی وہ سن گن بھی، جو وہ پہلے آسمانِ دنیا میں مقدر امور کے بارے میں نامکمل طور پر کر لیا کرتے تھے، بڑی حد تک ختم ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار کاہنوں تک پہنچنے والی ان کی "سچی" خبریں ایک تو نہایت کم ہوتی ہیں اور دوسرا ان میں جھوٹ کی بھرپور ملاوٹ ہوتی ہے - جیسا کہ آگے آنے والی حدیث میں اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
راوی Aishah (radiy-Allahu anha)
إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ ـ وَهْوَ السَّحَابُ ـ فَتَذْكُرُ الأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ، فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْفرشتے بادل میں نازل ہوتے ہیں اور آسمان میں ہونے والے اس فیصلے کا تذکرہ کرتے ہیں، تو شیطان چھپ کر سنتا اور کاہنوں تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کر دیتے ہیں۔
جنات کیا کر سکتے ہیں
- وہ وسوسہ ڈال سکتے ہیں۔ سورۂ ناس میں اس کا براہِ راست تذکرہ ہے: یعنی پلٹ کر چھپ جانے والے وسوسہ ڈالنے والے کا وسوسہ، "خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔"
- وہ مشاہدہ کرنے اور خبر پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کسی انسان کا قرین کسی جادوگر تک اس کی ذاتی تفصیلات پہنچا سکتا ہے۔
- وہ بعض حالات میں بعض اشیاء کو حرکت دے سکتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے سورۂ نمل میں ذکر فرمایا ہے کہ جنات نے بلقیس کا تخت اٹھایا تھا۔ مگر ایسا واقعہ غیر معمولی ہے اور بہت محدود حد تک ہوتا ہے۔
- وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت ہی سے کسی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں یا اس کے افعال پر کسی حد تک اثر ڈال سکتے ہیں۔ اہلِ علم اسے "صَرَع مِن الجِنّ" سے تعبیر کرتے ہیں - یعنی جنات کے مَس سے پیدا ہونے والی مرگی جیسی کیفیات۔ یہ طبی مرگی سے مختلف چیز ہے، کیونکہ طبی مرگی کے اپنے فطری اسباب ہوتے ہیں۔
غور کیجیے کہ ان میں سے کوئی بھی صلاحیت "خود مختار قوت" نہیں ہے۔ یہ سب جب بھی واقع ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کی تقدیر کے اندر اور اسی کے اذن سے واقع ہوتی ہیں (مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ) [قرآن 2:102]۔ مومن کے روزانہ کے اذکار وہ حصار قائم کرتے ہیں جسے عام طور پر جنات عبور نہیں کر پاتے۔
مومن کا روزانہ دفاع
- رات کو آیت الکرسی۔ صحیح بخاری ۵۰۱۰ میں ہے: اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک محافظ مسلسل آپ کے ساتھ رہتا ہے، اور صبح تک کوئی شیطان آپ کے قریب نہیں پھٹک سکتا۔
- صبح و شام تین تین مرتبہ معوذات۔ سنن ابی داود ۵۰۸۲ (حسن) میں ہے: یہ آپ کو ہر شر اور نقصان سے کفایت کے لیے کافی ہیں۔
- لا الٰہ الا اللہ، سو مرتبہ۔ صحیح مسلم ۲۶۹۱ میں ہے: اس دن کی شام تک یہ شیطان کے خلاف ایک ڈھال بنا رہتا ہے۔
- گھر میں داخل ہوتے، کھانا کھاتے اور کپڑے اتارتے وقت بسم اللہ۔ یہ مختصر کلمات ان عام دروازوں کو بند کر دیتے ہیں جن سے صحیح روایات کے مطابق جنات کا داخلہ ہوتا ہے۔
- پانچ وقت کی نماز کی مکمل پابندی کیجیے۔ نماز وہ مرکزی ڈھانچہ ہے جو حفاظت کے باقی تمام ذرائع کو ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔
جب خوف بھڑک اٹھے
کبھی کبھی جنات کا خوف ہی اصل آزمائش بن جاتا ہے - یعنی کوئی حقیقی جناتی نقصان درپیش نہیں ہوتا، بلکہ صرف ایک ہراساں کن تخیل ہوتا ہے جو خود ایک علیحدہ عذاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ شریعت کا اس کا حل وہی دعا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے وسوسے کے لیے حکم ارشاد فرمایا ہے:
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٣٦اور اگر تجھے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ لگ جائے، تو اللہ کی پناہ مانگ۔ بے شک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔
اس کے بعد معمول کے مطابق اپنے کاموں میں لگ جایے۔ خوف بھی ہر دوسرے وسوسے کی طرح ہی ہوتا ہے: جب اسے نظرانداز کیا جائے اور خوراک نہ دی جائے تو وہ خود بخود کمزور پڑ جاتا ہے۔ اپنا دن جاری رکھیے، نمازوں کی پابندی برقرار رکھیے، اور خوف کو اس قابل ہی نہ سمجھیے کہ آپ اسے جواب دیں۔
