Notice:صرف ادارتی ٹیم کی نظرِ ثانی مکمل ہوئی ہے - اہلِ علم کی نظرِ ثانی تاحال باقی ہے
بچوں کے لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
راوی Ibn Abbas (radiy-Allahu anhu)
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین کے لیے ان کلمات سے پناہ مانگا کرتے تھے: میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر شیطان اور موذی جانور اور ہر لگنے والی آنکھ سے تمہاری پناہ مانگتا ہوں۔ اور آپ نے فرمایا: تمہارے والد (ابراہیم علیہ السلام) اسماعیل اور اسحاق کے لیے انہی کلمات سے پناہ مانگتے تھے۔
آپ یہ کلمات اپنے بچے پر سوتے وقت، گھر سے نکلتے وقت اور بیماری کی حالت میں پڑھیے۔ جب وہ مناسب عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں خود پڑھنا سکھایے۔ یہ کلمات نہایت مختصر اور یاد کرنے میں آسان ہیں، اور مذکورہ تینوں نقصانات کو بیک وقت شامل کر لیتے ہیں۔
گھرانے کے لیے معوذات
راوی Aishah (radiy-Allahu anha)
أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہر رات اپنے بستر پر تشریف لاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ ملا کر ان میں پھونکتے، پھر ان میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے، پھر دونوں ہاتھ اپنے جسم پر جہاں تک پہنچ سکتے پھیرتے، سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے شروع کرتے۔ یہ عمل تین مرتبہ دہراتے۔
چھوٹے بچوں کا طریقہ یہ ہے کہ والد یا والدہ اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر تینوں سورتیں تلاوت فرمائیں، ہاتھوں میں نرمی سے دم کریں، پھر بچے کے سر، چہرے اور سینے پر پھیر دیں۔ یہ عمل تین مرتبہ کیا جائے۔ تلاوت کے اثر کے لیے بچے کا عربی سمجھنا ضروری نہیں؛ اللہ تعالیٰ والدین کے اخلاص ہی کو سنتا ہے۔
بچے یہ معمول کیسے سیکھیں
- اسے سب کے سامنے کیجیے۔ ہر رات ایسی آواز میں تلاوت کیجیے کہ بچوں تک پہنچ سکے۔ بچے وہی نقل کرتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔
- سب سے پہلے سورۂ اخلاص سکھایے۔ چار مختصر آیات، الفاظ آسان، اور معنی گہرا۔ چار یا پانچ برس کی عمر تک اکثر بچے اسے یاد کر لیتے ہیں۔
- پھر سورۂ فلق اور سورۂ ناس کا اضافہ کیجیے۔ یہ قدرے طویل ہیں، لیکن مکتب جانے کی عمر تک بآسانی یاد کی جا سکتی ہیں۔
- حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سکھایے، یعنی صحیح بخاری ۳۳۷۱ میں مذکور وہ کلمات۔
- بسم اللہ پڑھنا سکھایے - کھانے کے وقت، گھر میں داخل ہوتے وقت اور کپڑے اتارتے وقت۔
- ان کے ساتھ نماز پڑھیے۔ نقل و تقلید سے آغاز کیجیے اور سات برس کی عمر تک باقاعدہ نماز کی عادت ڈلوا دیجیے۔
بچے کے ساتھ کیا نہ کریں
- بچے پر تعویذ نہ لٹکایے۔ سنت یہ ہے کہ تلاوت کی جائے، نہ کہ کوئی شے گلے میں ڈالی جائے۔ سنن ابی داود ۳۸۸۳ (صحیح) اس مسئلے میں واضح ہے۔
- بچوں کو جنات کی ڈراؤنی کہانیاں ہرگز نہ سنایے۔ جو بچہ الماری میں چھپے کسی فرضی جن سے ڈر کر سویا ہو، اس کی حفاظت آسان ہونے کے بجائے مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
- کسی بھی صورت میں بچے کو نجومی یا جعلی عامل کے پاس نہ لے جایے۔ والدین کی طرف سے ڈالا گیا یہ دباؤ بچے کے عقیدے کو برسوں تک نقصان پہنچا سکتا ہے۔
- کثرت سے تصاویر بنا کر سرِعام نہ پھیلایے، بالخصوص پہلے سال میں۔ شریعت تصاویر کو از خود حرام قرار نہیں دیتی، تاہم نظرِ بد سے احتیاط کا حکم ضرور دیتی ہے۔
اگر بچہ بیمار ہو
راوی Abu Hurairah (radiy-Allahu anhu)
مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءًاللہ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر اس کی شفا بھی نازل فرمائی۔
شدید علامات کی صورت میں - مثلاً چھوٹے بچے کو تیز بخار، سانس لینے میں دشواری، طویل عرصے تک کھانے پینے سے انکار یا غیر معمولی سستی - تو فوراً طبی علاج کا بندوبست کیجیے۔ راستے میں ساتھ ساتھ تلاوت بھی جاری رکھیے۔ یہ دونوں ذرائع ایک دوسرے کے معاون ہیں، حریف ہرگز نہیں۔
