بنیادی اصول

اسلام میں رقیہ کیا ہے؟

رقیہ سے مراد یہ ہے کہ اپنے اوپر یا کسی دوسرے پر، حفاظت اور شفاء کی نیت سے قرآن، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، یا کوئی صحیح و ثابت دعا پڑھی جائے۔ یہ کوئی عوامی توہم پرستی پر مبنی جادو ٹونا نہیں، نہ کوئی تجارتی کاروبار ہے، اور نہ ہی شفا کاروں کے کسی مخصوص طبقے کا اجارہ۔

Notice:صرف ادارتی ٹیم کی نظرِ ثانی مکمل ہوئی ہے - اہلِ علم کی نظرِ ثانی تاحال باقی ہے

خود لفظِ ’’رقیہ‘‘ کا مفہوم

کلاسیکی عربی میں ’’الرقیہ‘‘ کا اطلاق ہر اُس بولے گئے کلام پر ہوتا تھا، جو کسی مخصوص مقصد کے لیے کسی شخص پر پڑھا جاتا۔ زمانۂ جاہلیت میں اس کا بیشتر حصہ شرک پر مبنی تھا - بتوں، روحوں، یا اللہ تعالیٰ کے سوا دیگر ہستیوں کو پکارا جاتا تھا۔ جب اسلام تشریف لایا، تو نبی کریم()نے اس باب کو سرے سے کالعدم قرار نہیں دیا، بلکہ اسے پاک و صاف کر دیا: تلاوت اور دعا کو باقی رکھا، اور شرک کو نکال باہر کیا۔

اس عمل کا نتیجہ وہ چیز ہے جسے علماء ’’الرقیة الشرعیة‘‘ یعنی رقیہ شرعیہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اہلِ سنت کے مذاہبِ اربعہ میں اس کی تین متفقہ شرائط بیان کی گئی ہیں:

  1. یہ قرآنِ کریم، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، یا کسی صحیح و ثابت دعا پر مشتمل ہو۔
  2. یہ عربی زبان میں ہو، یا کسی ایسی زبان میں ہو جس کا مفہوم پوری طرح معلوم اور سمجھا ہوا ہو، اور وہ شرک سے قطعاً پاک ہو۔
  3. تاثیر کے سلسلے میں اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہو، نہ کہ خود ان الفاظ پر، جیسے ان میں اللہ کی ذات سے الگ کوئی مستقل قوت ہو۔

نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں اساس

قرآنِ کریم خود اپنے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ سراپا شفاء ہے (شِفَآءٌۭ وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ - قرآن ۱۷:۸۲):

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ ١ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ٢ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ٣ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ ٤ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ٥

Qul a'udhu bi-rabbi-l-falaq...

کہہ دو: میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

سنیں1 / 5 · Mishary al-Afasy
قرآن 113:1-5
تصدیق شدہ

سورۃ الفلق بذاتِ خود ایک رقیہ ہے - جس میں مومن اپنے رب کی پناہ، چند مخصوص نقصانات سے، براہِ راست طلب کرتا ہے۔ سورۃ الناس اس کا جوڑ ہے اور سورۃ الاخلاص ان دونوں کی ہمراز۔ نبی کریم()نے ان تینوں سورتوں کو مجموعی طور پر ’’معوذات‘‘ یعنی پناہ مانگنے والی سورتیں قرار دیا، اور ہر رات ان کی تلاوت معمول بنایا۔

راوی Aishah (radiy-Allahu anha)

أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہر رات اپنے بستر پر تشریف لاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ ملا کر ان میں پھونکتے، پھر ان میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے، پھر دونوں ہاتھ اپنے جسم پر جہاں تک پہنچ سکتے پھیرتے، سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے شروع کرتے۔ یہ عمل تین مرتبہ دہراتے۔

Sahih al-Bukhari 5017 · Sahih (al-Bukhari)تصدیق شدہ

رقیہ وہ ہرگز نہیں جو عام لوگ گمان کرتے ہیں

رقیہ شرعیہ بمقابلہ جادوگر کا طریقۂ کار
اسلامی روحانی دم (رقیہ شرعیہ)جادوگر کا طریقۂ کار
تاثیر کا منبعاللہ تعالیٰ، اپنے قرآنِ پاک اور اسماء الحسنیٰ کے ذریعےجنات، روحیں، یا خود عامل کی دعویٰ کردہ قوت
زبانعربی قرآنِ پاک یا مستند و ثابت دعامہمل اور نامعلوم الفاظ، خلط ملط عربی، یا سراسر گھڑے ہوئے کلمات
بطورِ وسیلہ مستعمل اشیاءکسی شے کی شرط نہیں؛ بسا اوقات پانی، تیل یا شہد پر دم کر دیا جاتا ہےانڈے، نمک، لیموں، خون، گرہ دار دھاگے، تحریری تعویذ
اجرت / معاوضہبالکل مفت، یا وقت کے بدلے کوئی معمولی ہدیہبھاری بھرکم فیسیں، جو دعویٰ کردہ ’’طاقتِ علاج‘‘ کے تناسب سے بڑھتی جاتی ہیں
درکار اہلیتہر وہ مومن جس کا عقیدہ خالص ہو، حتیٰ کہ ایک بچہ بھیایک نام نہاد ’’عطیہ‘‘ یا ’’موہبت‘‘، رازداری، اور خاندانی وراثت کے طور پر منتقلی
تشخیصسرے سے کوئی تشخیص نہیں - یہ تلاوت اور ذکر کا عمل ہے، تشخیص کا نہیںسحر بھیجنے والے کا نام بتاتا ہے، آئندہ کی پیش گوئیاں کرتا ہے، اور دشمنوں کی نشاندہی کا دعویٰ کرتا ہے

رقیہ کا اہل کون ہے

اسلام کا اصل اور بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر مسلمان خود اپنے اوپر رقیہ کرے۔ نبی کریم()روزانہ اپنے اوپر تلاوت فرماتے، اور اپنے مرضِ آخر میں حضرت عائشہ صدیقہ(رضي الله عنها)آپ ہی کے دستِ مبارک کو لے کر، آپ کے جسدِ اطہر اور سانس کی برکت کی نیت سے، آپ پر دم فرماتیں۔

راوی Aishah (radiy-Allahu anha)

أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری میں آپ معوذات (سورۂ اخلاص، فلق، ناس) پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔ پھر جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کے اپنے ہاتھ آپ کے جسم پر اس میں موجود برکت کی نیت سے پھیرتی۔

Sahih al-Bukhari 5735 · Sahih (al-Bukhari)تصدیق شدہ

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے: خود رقیہ ہی اصل بنیاد ہے۔ شریکِ حیات یا کوئی قریبی فرد بھی آپ پر تلاوت کر سکتا ہے۔ کوئی معتمد عالم یا راقی بھی، بشرطیکہ اس کا طریقۂ کار شرعاً درست ہو، تلاوت کر سکتا ہے۔ شریعت آپ کو کسی راقی کی تلاش کا پابند نہیں بناتی، البتہ خود اپنے اوپر تلاوت کی ترغیب ضرور دیتی ہے۔

رقیہ کن امراض و امور کے لیے کارگر ہے

احادیث میں جو تین موارد سب سے زیادہ ذکر ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: جسمانی بیماری، نظرِ بد (العین) اور سحر۔ ان کے علاوہ ہر مسلمان عمومی تحفظ کی نیت سے صبح، شام، سوتے وقت، گھر میں داخل ہوتے ہوئے، اور سفر سے پہلے بھی تلاوت کرتا ہے۔ وسیع مفہوم میں رقیہ دراصل مومن کی اپنے رب سے ایک مسلسل مناجات ہے، جس میں وہ پناہ و حفاظت طلب کرتا رہتا ہے۔

رقیہ کیا نہیں ہے: یہ نہ کسی دوا کا متبادل ہے، نہ کسی نفسیاتی صدمے کے علاج کا، اور نہ ہی کسی ضرر رساں ماحول سے علیحدگی اختیار کرنے کا۔ نبی کریم()نے خود بھی دوا کا استعمال فرمایا، اور اس باب میں بھی ہم آپ ہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔

آج رات سے ابتدا کیسے کیجیے

  1. اگر میسر ہو تو وضو فرما لیجیے۔ یہ لازم نہیں، تاہم دل کو سکون و یکسوئی عطا کرتا ہے۔
  2. اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سینے کے سامنے چلو کی شکل میں جمع کیجیے۔
  3. سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں سے ہر ایک کو ایک ایک مرتبہ پڑھیے، اور پڑھنے کے بعد اپنی جمع کردہ ہتھیلیوں میں پھونک ماریے۔
  4. پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے شروع کرتے ہوئے، پورے بدن پر پھیرتے جائیے۔
  5. اس عمل کو تین مرتبہ دہرائیے۔
  6. سونے سے قبل ایک بار آیت الکرسی اور ایک بار سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لیجیے۔
  7. اب اپنی نیند اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیجیے، اور اُسی ذات پر بھروسہ رکھیے جس سے آپ نے حفاظت کی درخواست کی ہے۔
?کیا اپنے اوپر رقیہ پڑھنے کے لیے کسی مخصوص حالتِ طہارت کا ہونا ضروری ہے؟
نہیں۔ شفا اور حفاظت کی نیت سے قرآنِ کریم کی تلاوت ہر حال میں کی جا سکتی ہے۔ البتہ جمہور علماء کے نزدیک جنبی شخص اور حالتِ حیض میں عورت مصحفِ شریف کو براہِ راست نہیں اٹھائیں گے۔ تاہم رقیہ کی نیت سے زبانی تلاوت ہر شخص کے لیے، ہر وقت جائز ہے۔
?کیا میں پانی پر تلاوت کر کے اسے پی سکتا ہوں؟
جی ہاں؛ پانی پر تلاوت کر کے دم کرنا ایک معروف اور ثابت عمل ہے۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سے مأخوذ ہے، جسے بعض علماء نے قابلِ قبول قرار دیا ہے، اور بہت سے صحابہ و تابعین رحمہم اللہ کا اس پر عمل بھی منقول ہے۔ شرط یہ ہے کہ یقین یہی رہے کہ اصل تاثیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، نہ کہ خود پانی کی کسی ذاتی خاصیت سے۔
?اگر تلاوت کرتے وقت مجھے کوئی اثر یا کیفیت محسوس نہ ہو تو کیا کیا جائے؟
رقیہ کی تاثیر اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے؛ کیفیات یا جذبات اس کا معیار نہیں۔ نبی کریم()روزانہ تلاوت فرماتے، اور ہمیں آپ کی پیروی کا حکم ہے، نہ کہ کسی کیفیت کے تعاقب کا۔ چنانچہ تلاوت کو جاری رکھیے؛ روحانی نفع بہرحال حقیقت ہے، خواہ جسم اسے شعوری طور پر محسوس کرے یا نہ کرے۔
?کیا اپنی تلاوت ریکارڈ کر کے بعد میں چلا لینا درست ہے؟
تلاوت سننا تو بلاشبہ نفع بخش ہے، تاہم رقیہ خاص طور پر خود مومن کا، اپنے رب سے براہِ راست پناہ مانگنے کا عمل ہے۔ لہٰذا جہاں ممکن ہو، خود ہی تلاوت کیجیے۔ اگر مرض یا شدید تکان آپ کو بولنے سے روکے، تو ایسی صورت میں ریکارڈنگ سے مدد لینا جائز ہے، بشرطیکہ نیت اللہ تعالیٰ ہی سے پناہ طلب کرنے کی ہو۔
?کیا میں کسی سوئے ہوئے شخص پر، یا ایسے چھوٹے بچے پر، جو ابھی سمجھ نہیں رکھتا، رقیہ پڑھ سکتا ہوں؟
جی ہاں۔ نبی کریم()نے خود اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین(رضي الله عنهم)پر ان کی کم سنی میں تلاوت فرمائی، اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی رات کے وقت اپنے بچوں پر تلاوت کرتے تھے۔ تلاوت کے لیے سننے والے کا با شعور ہونا شرط نہیں؛ اصل شرط پڑھنے والے کے اخلاص کی ہے۔
?کیا کسی صورت میں راقی کی خدمات لینا واقعی ضروری ہوتا ہے؟
بنیادی طور پر تین صورتوں میں راقی سے مدد لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے: ایک یہ کہ بیماری اتنی شدید ہو کہ مریض خود تلاوت پر قادر نہ ہو؛ دوسرے یہ کہ کسی شخص کو مسلسل حوصلہ افزائی اور باز پُرس کی ضرورت ہو؛ اور تیسرے یہ کہ کوئی پیچیدہ خاندانی صورتِ حال درپیش ہو، جس میں بیرونی اور صاحبِ علم رہنمائی درکار ہو۔ یاد رہے، راقی کبھی توکل کا متبادل نہیں ہوتا، بلکہ وہ توکل کی راہ میں ایک معاون کا کردار ادا کرتا ہے۔